اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سید حسن نصر اللہ نے امام مھدی اسکاوٹ تنظیم کے افتتاح کی انتیسویں سالگرہ اور یوم ولادت امام زمانہ(ع) کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا: جب حزب اللہ نے شام میں قدم رکھا تو ہر طرف شور و شرابا مچ گیا تھا لیکن آج کہیں یہ شور سنائی نہیں دے رہا ہے اور عراق میں داعش کے گھسنے کی کوئی مذمت نہیں کر رہا ہے؟
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے عراق کے شہر موصل پر دھشتگردوں کے تسلط کے بعد مرجعیت کی طرف سے اٹھائے گئے ٹھوس قدم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مرجعیت کی طرف سے دھشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لوگوں کو جہاد کی دعوت دینا کسی ایک قبیلے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد تمام عراقی عوام کی حمایت کرنا اور عراق کو بچانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمارے دینی مقدسات کی توہین کئے جانے کا وقت اب ختم ہو گیا ہے ہم عراق میں کسی کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمارے دینی مقدسات کی توہین کرے۔
سید حسن نصر اللہ نے زور دیتے ہوئے کہا: ہم نے شام میں بارہا کہا کہ حضرت زینب(س) کے روضے کی توہین مت کرنا اور عراق میں بھی کہتے ہیں کہ کسی کے اندر اتنی جرئت نہیں ہے کہ وہ نجف، کربلا، سامرا اور کاظمین میں ہمارے مذہبی مقدسات کی توہین کرے۔
انہوں نے اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں لبنان میں جلد از جلد صدر کو انتخاب کئے جانے اور صدارت کی کرسی کو اتنی دیر تک خالی نہ رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے صدر کا مطالبہ کرتے ہیں جو مزاحمت پر پشت سے خنجر نہ چلائے۔














۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲